Monday, 30 April 2018

ہمیں بھی یادر رکھیں جب لکھیں تاریخ گلشن کی

جب گلستاں کو خون کی ضرورت پڑی
تو سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
پھربھی کہتے ہیں یہ اہل چمن
یہ چمن ہمارا ہے تمہارا نہیں

قسط اول 
آج ہمارے وطن عزیز میں ایک طرح کا چلن بن گیا ہے کہ اگر کوئی آپ کسی کے نظریہ سے اتفاق نہ کرے تو جھٹ سے کہہ دو کہ یہ دیش دورہی غدار وطن ہے ۔اور آج لوگ مسلمانوں سے حب الوطنی کا سرٹیفکٹ مانگتے ہیں کہ مسلمانوں تمہیں اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو ہمارے نظریات کے مطابق ورنہ نہیں ۔ ایسے کم ظرفوں کو ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ہندوستان ہمارے آبائو اجداد کے خون پسینے سے بنا ہے ہمارے آبائو اجداد نے اس لئے نہیں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس طرح کے تعصبات اور اس طرح کی بھپتیاں سہیں بلکہ ہمارے آبائو اجداد نے اس لئے قربانیاں دی تھیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے ملک عزیز میں سینا تان کر چلیں اور جب اس طرح کے سرپھرے ان سے کہیں کہ یہ تمارا وطن نہیں تو انہیں ان کی اوقات بتا دیں ۔ مجھے ایک بات یاد آرہی ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا ہی خوب کہا تھاکہ اگر ایک طرف پورے ہندوستان کے لوگوں کی قربانیوں کو رکھ دیا جائے اور دوسری طرف علما صادقپور کیی قربانیوں کو تو علمائ صادقپوری کی قربانیوں کا پلڑا جھک  جائے گا۔
لیکن آج کچھ ہاف چڈی والے اور ان کے حامی یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا یہاں کیا رکھا ہے وہ یہاں سے چلے جائیں۔ یا انہیں اگر یہاں رہناہے تو ہمارے ثقافت وکلچر میں ضم ہوجائیں۔تب ہم انہیں اپنا لیں گے ۔ور نہ نہیں ۔ ارے تم ہمیں اس طرح کی گیڈر بھپتیاں مت دو ہم بہادر قوم ہیں ہم ایک روشن تاریخ رہی ہے اور ہم نے صرف ہندوسستان ہی نہیں بلکہ دنیا عظیم حصے پر ہماری حکمرانی رہی ہے اور آج بھی ہم حکمراں ہیں ۔ہم ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور یہیں کی مٹی میں ہمیں جانا ہے اس لئے ہم اس ملک کے پورے حقدار ہیں اور اس ملک کی حفاظت اور اس ملک کے ہر زرے پر ہمارا بھی اتنا ہی حق جتنا کے دیگر برادران وطن کا ہے ۔ ہم نہ یہاں اپنے کو احساس کمتری کا شکار سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی یہ سمجھے کہ ہم یتم و نادار و بے کس ہیں بلکہ اگر ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی اپنے آبائو اجداد کے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیار ہیں اورملک عزیز کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دیں گے 
فقط والسلام